Select Menu

نیوز اردو

نیوز اردو

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

» » او ا سی کی قرارداد کو مسترد کر دیاتوار 3 مارچ 2019

سی کی قرارداد کو مسترد کر  اتوار  مارچ   21:16


او آئی سی کے سخت اقدامات پر سشما سوراج کا رد عمل آ گیا

متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں یہ قرار داد منظور کی گئی تھی کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اوربھارت کے درمیان بنیادی تنازع ہے جس کا حل ناگزیر ہے۔ او آئی سی کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر ممبر ممالک کی جانب سے اس پر گہری تشویش کا اظہاربھی کیا گیا تھا۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سےاقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ کشمیر پرہندوستان کا مؤقف بڑا واضح اور ٹھوس ہے اور یہ بھارت کا خاص ذاتی اور اندرونی معاملہ ہے۔ او آئی سی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور قرار داد منظور کی گئی جس میں بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ اور پاکستان کی فضائی حدود کی کھلی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس کے ساتھ او آئی سی اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان ک جانب سے بھارت کو مذاکرات کے پیشکش اور بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے اقدام کو بھی سرایا گیا۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک روز قبل ہی او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے والی ریاستوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے پر زور دیا تھا جبکہ اس سے اگلے ہی روز ممبر ممالک کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے او آئی سی اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کو دعوت دینے پر احتجاج کرتے ہوئے شرکت نہیں کی تھی۔

رائے غلام عباس کھرل Farhan

رائے غلام عباس کھرل کاشتکار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں اور کسووال پریس کلب رجسٹرڈ کے جنرل سیکریٹری ہیں۔
«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

اپنا تبصرہ تحریر کریں توجہ فرمائیں :- غیر متعلقہ,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, اردو نیوزاسکا حق رکھتا ہے نیز اردونیوز پریس کلب(رجسٹرڈ) کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں